سرکاری اداروں کے روزانہ اوسط نقصانات 28 کروڑ روپے تک پہنچ گئے

پاکستان میں سرکاری ملازمتوں والے اداروں (SOEs) کی مالیاتی صورتحال انتہائی تشویشناک بن گئی ہے جہاں ان کے روزانہ اوسط نقصانات 28 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ادارے نہ صرف اپنی آمدنی سے اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ ان کے مجموعی نقصانات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ ملک کی معیشت پر بوجھل ثابت ہو رہا ہے۔

سرکاری اداروں کے بڑھتے ہوئے نقصانات کی وجہ سے حکومت کو انہیں مالی مدد فراہم کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی رقم مختص کرنی پڑ رہی ہے، جس سے قومی خزانے پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مالی معاونت نہ صرف سرکاری اداروں کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ دیگر ضروری شعبوں جیسے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مختص وسائل کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کی مالیاتی بحالی کے لیے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انہیں خود کفیل بنایا جا سکے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے ماہرین کا مشورہ ہے کہ ان اداروں میں انتظامی اصلاحات، ٹیکنالوجی کی نئی اقسام کا استعمال اور کاروباری حکمت عملیوں میں تبدیلی کی جائے تاکہ مستقبل میں ان کے نقصانات میں کمی لائی جا سکے اور انہیں منافع بخش اداروں میں تبدیل کیا جا سکے۔


بشکریہ / ذریعہ: TechJuice | اصل خبر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں | نیوز ڈیسک

اپنا تبصرہ لکھیں