Dehshat Gardi

دہشت گردی پاکستان کی معیشت کے لیے ساختی رکاوٹ بن گئی ہے

دنیا کے معروف انگریزی اخبار ڈان کے حالیہ تجزیے کے مطابق، دہشت گردی اب پاکستان کی معیشت کے لیے ایک عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہری ساختی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلسل دہشت گردانہ واقعات نہ صرف عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ملک کی کل معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے ماحول اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے معیشت کو طویل مدتی نقصان پہنچ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ماہرینِ معیشت اور حکام کے موقف کے مطابق دہشت گردی کی موجودگی سے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے، جبکہ سیاحت، صنعت اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے اس بنیادی مسئلے کا حتمی حل نہیں نکالا جاتا، پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور عالمی معیشت میں اپنی جگہ بنانے کی کوششیں ناکام رہیں گی، کیونکہ عدم استحکام کے ماحول میں کوئی بھی معاشی اصلاحات پائیدار نہیں رہ سکتیں۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کا پس منظر یہ ہے کہ ملک کو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لگنے والے بھاری اخراجات کا سامنا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی نقصانات کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ اس رپورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ معیشت کو اس ساختی رکاوٹ سے آزاد کر کے پائیدار ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے، ورنہ معاشی بحران مزید گہرا ہوتے جائے گا۔


بشکریہ / ذریعہ: UA.NEWS | جہلم ٹائمز نیوز ڈیسک

اپنا تبصرہ لکھیں