اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان نے اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی عالمی سطح پر اپیل کی ہے۔ پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ یہ تشدد نہ صرف بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی بھی پامالی ہے، جس کے خلاف عالمی برادری کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
پاکستانی حکام نے اجلاس میں پیش کردہ موقف میں زور دیا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں اضافہ فلسطینی ریاست کی موجودگی اور اس کی سرحدوں کی سلامتی کو براہ راست خطرہ بن رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کی تحفظ کے لیے ضروری سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھائے، تاکہ غاصب ریاست کو اس کے غیر قانونی اقدامات کی سزا مل سکے اور فلسطینی عوام کو ان کے حقِ خودارادیت اور ریاستی حیثیت کی مکمل ضمانت فراہم کی جا سکے۔
موجودہ صورتحال میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے مغربی کنارے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے اور فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر اپنی مستقل پالیسی کی تکرار کی کہ وہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن کے لیے اپنا پورے تعاون کا عہد دہراتا ہے، جہاں فلسطین اور اسرائیل دونوں امن اور سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں، لیکن اس کے لیے اسرائیل کو اپنے غیر قانونی اقدامات فوراً روکنے ہوں گے۔
بشکریہ / ذریعہ: Arab News PK | اصل خبر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں | جہلم ٹائمز نیوز ڈیسک